فکرِ اقبال کورس
''بزم فکر اقبال پاکستان'' کے زیر اہتمام تین ماہ پر محیط
''فکر اقبال کورس '' کا انعقاد آن لائن کیا گیاہے ۔یہ کورس اپنے مندرجات اور تنظیم
کے حوالے سے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔موجودہ دور میں جب روایات و اقدار کا جنازہ
اٹھ چکا ہے ، مسلمات کو للکارا جا رہا ہے اور بڑی سرعت سے مغربی معاشرت ہمارے معاشرے
کے حسن کو داغدار کر رہی ہے ایسے میں علامہ اقبال کی فکر کو انتہائی آسان انداز
میں شائقین اقبال کے دروازوں تک پہنچانا ایک جہاد ہےجس کے لیے "بزم فکر اقبال
پاکستان''کے سر پرست اعلیٰ جناب منیب اقبال ،مرکزی صدر جناب پروفیسرڈاکٹرقمراقبال
اور جوائنٹ سیکرٹری زین نوید مبارک باد کے مستحق ہیں اس کے علاوہ تمام مقررین طلبا کی طرف سے بصد احترام شکریہ کے سزاوار
ٹھہرتے ہیں جو کہ اس مصروف زندگی میں فکر اقبال کے اس مشن کے لیے اپنا قیمتی وقت
تشنگان علم کی پیاس بجھانے کے لیے صرف کر رہے ہیں۔اس کورس میں ملکی و غیر ملکی اقبال شناس اقبال کی فکر
کو قارئین کے سامنے رکھیں گے کورس کا شیڈول شرکاء کو بھیج دیا گیاہے۔یہ کورس ہر کس
و ناکس کے لیے ہے ڈگری ، قابلیت یا ایسی
کوئی اور شرط نہیں ہے بس کورس کے اختتام پہ ایک بنیادی پرچہ حل کرنا ہے جس کو پاس
کرنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا [لیکچرمیں کسی وجہ سے شریک نہ ہونے پر
یو ٹیوب پہ لیکچر کی ویڈیو دیکھی جا سکتی
ہے۔اس کے علاوہ تمام حوالہ جاتی کتب بھی گروپ میں ارسال کر دی جاتی ہیں]۔فکر اقبال
کا تعارفی لیکچر ۰۷۔اکتوبر۲۰۲۱ء کی رات
۰۸:۳۰ بجے گوگل میٹ پر منعقد کیا گیا خوش آمدید کے بعد پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال
[مرکزی صدر ''بزم فکر اقبال پاکستان''] نے فکر اقبال کورس کے مندرجات اور تشکیل پر
روشنی ڈالی اس کے موضوعات کا تعارف اور
مقررین کا مختصر انداز میں بتایا ۔وقفہ سوالات میں ڈاکٹر صاحب نے بھارت میں موجود شرکاء کے سوال پر انھیں وہاں پہ بزم
فکر اقبال کی شاخ بنانے کا کہا اور ابتدائی کام شروع کر دیا جو کہ ان کے وژن کا
پتا دیتا ہے اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں سے جڑے شرکاء کو بھی فکر اقبال سے
جڑنے اور اپنے اپنے شہروں میں بزم کی شاخیں قائم کرنے کا کہا ۔ان کا کہنا تھا کہ
اقبال سب کا ہے اور اسے بغیر کسی علاقے یا مخصوص ملک سے جوڑے سمجھنے کی کوشش کی جا
ئے گی ۔
ابھی تک اس پلیٹ فارم سے فکر اقبال پر دو لیکچر دیے جا چکے ہیں ان اک اجمالی جائزہ
پیش خدمت ہے :-
فکر اقبال کورس کا لیکچر نمبر ۱-
عنوان :مطالعہ فکر اقبال کی اہمیت و ضرورت
مقرر: پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال
[مرکزی صدر ''بزم فکر اقبال پاکستان'']
یہ لیکچر ۰۹-اکتوبر
۲۰۲۰ء کی رات ۰۸:۳۰ بجے منعقد کیا گیا –
لیکچر کا آغاز سر پرست اعلیٰ جناب منیب اقبال کے افتتاحی
ویڈیو پیغام سے ہوا جس میں انھوں نے بزم فکر اقبال کے عہدداران کے اس اقدام پر
مسرت کا اظہار کیا اورساتھ ہی تحریک پاکستان اور خطبہ الہٰ آباد کے حوالے سے اقبال
کی مساعی اور علاحدہ ریاست کے لیے ان کے بیانیے پر تحقیق و تنقید کی طرف اشارہ کیا
۔انھوں نے کہا کہ ہم اس سعی کو فراموش کر رہے ہیں اور ''بزم فکر اقبال پاکستان''
سے میری گزارش ہے کہ وہ اس پہ خصوصی لیکچرز کا انعقاد کرے جب کہ میں آئندہ سال جس
بھی فورم پر بلایا جاؤں گا وہاں اسی حوالے سے گفتگو کروں گا اس کے ساتھ ہی انھوں
نے ''بزم فکر اقبال پاکستان'' کی تمام قیادت اور شرکاء کا شکریہ بھی ادا کیا اور
نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب ماہر اقبالیات ہیں اوراقبال کی فکری اساس سے کما
حقہ آگاہ ہیں انھوں نے اپنے لیکچر میں جن
دو تناظرات کے زیر اثر مطالعہ اقبال پر زور دیا
۱۔مذہبی اقدار کی
ٹوٹ پھوٹ اور فرسودہ نظام تعلیم ہے
۲۔سائنس کی ترقی اور دنیا کا ایک وحدت میں جڑنا[گلوبل
ویلیج]
ڈاکٹر صاحب کے خیال میں موجود تعلیمی نظام اور چند نام نہاد
لبرل کہلانے والے ادارے مذہبی اقدار کو نشانہ بناتے ہیں اور آئے روز مسلمات کو چیلنج کیا جاتا ہے اور اقبال کا الحاد کے اس نظریے کے خلاف اپنا
نظریہ ہے ۔
اسی طرح ترقی کی اس دوڑ اور مغرب پرستی کے سیلاب میں مطالعہ
اقبال کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے ۔
سوال کے جواب میں
انھوں نے واضح کیا کہ اقبال کا پیغام آفاقی اور عالم گیر ہے اور ہم اقبال کا
مطالعہ اسی انداز میں کریں گے۔
پہلے لیکچر میں ملک اور بیرون ملک سے تین سو سے زائد شرکاء
نے شرکت کی جو کہ اس قدم کی پہلی واضح کامیابی تھی۔
لیکچر۲- عنوان:اقبال اور ان کا زمانہ
مقرر:بریگیڈئر ڈاکٹر وحیدالزماں
کسی تخلیق کار کے فن پاروں کو سمجھنے کے لیے جہاں اس کی
شخصیت ،ماحول کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے وہیں اس کے عہد یا زمانے کی تعبیر بھی لازم
و ملزوم ہوتی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے اقبال کے عہد کو نہ صرف برصغیر کے حالات بلکہ مسلم
امہ کے اس وقت کے مسائل کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش کی اور یہ ایک تاریخی حوالے
کا لیکچر بن گیا ۔
اقبال کی شاعری کاانتہائی متحرک دور مسلمانوں کی ابتری کا
دور ہے ۔۔۔۔۔
*خلافت عثمانیہ شکست و ریخت کا شکار نظر آتی ہے ۔
*عرب قومیت پرستی عروج پہ نظر آتی ہےجس سے مسلمانوں کی وحدت
ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتی ہے ۔
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دلتدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ
دشوارترکان جفا پیشہ کے
پنجے سے نکل کر بے چارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار
*جنگ بلقان و طرابلس
*یورپ کی غلامی جو کہ پورے بلاد اسلامیہ پر پھیلی ہوئی ہے ۔
*صرف افغان مسلم ریاست کا وجود جس کی طرف ان کی نگاہیں
اٹھتی ہیں اور انھیں ملت اسلام کیروح سمجھتے ہیں ۔
غرض پوری مسلم امہ انتشار،غلامی اور راہ سے بھٹکی ہوئی تھی
۔اقبال پھر بھی امید کا خواب دیکھتے ہیں انھیں
لگتا ہے کہ شاید مستقبل میں مسلمان خود شناسی ،خودداری اور خود انحصاری کی
طرف آجائیں گے یہی وجہ تھی کہ انھوں نے بلاد ایشیا کے مسلمانوں کو تاریخ میں پہلی
دفعہ فلسفیاتی اور نظریاتی سطحوں پر ایک خواب دیا۔۔۔
اقبال اسی وجہ سے مولانا مدنی سے خوفزدہ تھے انھیں وحدت کا
خواب بھیانک لگ رہا تھا جو آج سچ ثابت ہو رہا ہے ۔خلافت کے بارے میں ایک سوال پر
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ اقبال اسے ایسی تحریک سمجھتے تھےجو کہ ناکام ہونے کے
لیے تھی ان کے خیال میں جو جنگ ہم میدان میں ہار چکے تھے اسے جلوسوں اور مذمت
کاریوں سے جیتنے کا خواب دیکھنا انتہائی فرسودہ ہے وہ جہاد کے قائل تھے نہ کہ
گدائی کے ۔اقبال بندوق سے لڑ نہیں سکتے تھے لیکن فکری سطح پہ انھوں نے استعمار کے
خلاف پوری طرح مزاحمت کی۔۔۔۔۔ آخر میں پھر سے شکریہ ادا کرتے ہیں ''بزم فکر اقبال پاکستان''
کی انتظامیہ کا کہ انھوں نے علم کی یہ شمع جلانے کا اہتمام کیا ہے۔۔۔۔۔۔
رپورٹ : قیصر شہزاد ساقیؔ
میں بھارتیہ مسلمان ہوں میرا یہ کورس کرپانا کس طرح ممکن ہے؟
ReplyDelete